لاگ ان رجسٹر کریں
دریافت کریں
رمضان ہمارے بارے میں رابطہ
زبان
English اردو فارسی বাংলা हिन्दी தமிழ் پښتو ਪੰਜਾਬੀ
→ ← واپس
📝 بلاگ

علامہ اقبال: شاعرِ خودی

📅 16 Apr 2026 ⏱ 1 min 👁 0
علامہ محمد اقبال (1877-1938) گزشتہ دو صدیوں کے اہم ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک ہیں۔ پاکستان کے روحانی والد کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، مگر سب سے پہلے وہ شاعر تھے — ایسے شاعر جن کی شاعری نے خودی کا فلسفہ ایک پوری نسل تک پہنچایا۔

**ابتدائی زندگی۔** سیالکوٹ (اب پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ معمولی وسائل کے گھرانے میں پلے بڑھے، مگر ذہانت جلد پہچانی گئی۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی، پھر کیمبرج (قانون اور فلسفہ) اور میونخ (جہاں فارسی مابعد الطبیعات پر ڈاکٹریٹ کی)۔

**تین زبانوں کی شاعری۔** اقبال نے اردو، فارسی اور انگریزی میں لکھا۔ ان کا اردو دیوان "بانگِ درا" اور فارسی "زبورِ عجم" جدید اسلامی شاعری کی عظیم ترین میں شمار ہوتے ہیں۔ انگریزی میں "Reconstruction of Religious Thought in Islam" (1930) ایک سنگ میل ہے۔

**خودی۔** اقبال کا مرکزی تصور "خودی" تھا — اللہ سے تعلق کے ذریعے انسانی صلاحیت کی معراج۔ کلاسیکی تصوف کی انکار ذات کے برخلاف، اقبال نے متحرک تعلق کی دعوت دی — مومن کو اپنی خودی کو مضبوط کرنا ہے، نہ کہ فنا کرنا۔

**پاکستان کا خواب۔** 1930ء کے الہ آباد خطبے میں اقبال نے شمال مغربی ہند میں الگ مسلم سیاسی وحدت کی آواز بلند کی۔ وہ پاکستان کے وجود سے نو سال پہلے وفات پا گئے، مگر ان کی فکری بنیاد پر ہی یہ ملک بنا۔

**آج بھی زبانِ عام پر۔** ہر پاکستانی بچہ ابتدائی سال میں "لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" سیکھتا ہے۔ لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں ان کا مزار روزانہ زائرین کو کھینچتا ہے۔

پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کی ہر مسجد اقبال کی تشکیل کردہ روایت کی وارث ہے — خوددار، روحانی طور پر بیدار، مقامی طور پر جڑی۔ NamazAxis آپ کو اپنے قریب ایک ڈھونڈنے میں مدد دیتا ہے۔
→ ← واپس
ہم آپ کے تجربے کو بہتر بنانے اور تجزیات کے لیے کوکیز استعمال کرتے ہیں۔ مزید جانیں